ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / "بھٹکل : لال پتھروں کی کھدائی سے غائب ہو رہے ہیں پہاڑ - خطرے کی زد میں آ رہے ہیں رہائشی علاقے

"بھٹکل : لال پتھروں کی کھدائی سے غائب ہو رہے ہیں پہاڑ - خطرے کی زد میں آ رہے ہیں رہائشی علاقے

Fri, 19 Aug 2022 19:53:52    S.O. News Service

بھٹکل 19 / اگست (ایس او نیوز) پچھلے کچھ برسوں سے بھٹکل تعلقہ میں لال پتھروں کی کھدائی کا کام بہت ہی بڑے پیمانے پر بے روک ٹوک چل رہا ہے اور اس کے نتیجہ میں برساتی موسم میں زمین اور چٹانیں کھسکنے کے معاملے سامنے آنے شروع  ہوگئے ہیں۔ 
    
ابھی اسی مہینے میں مٹھلّی علاقے میں زمین کھسکنے سے مکان تباہ ہونے اور چار لوگوں کی جان چلے جانے کا جو دردناک حادثہ پیش آیا تھا وہ بھی اسی لال پتھروں کی کھدائی سے درپیش خطرات کا منھ  بولتا ثبوت ہے ۔ مگر افسران کی خاموشی اور ملی بھگت سے قانونی یا غیر قانونی طریقے سے پتھروں کی کھدائی کا کام تعلقہ بھر میں بے لگام جاری ہے اور رہائشی علاقے کو درپیش خطرات کی کسی کو بھی پروا نہیں ہے۔
    
کچھ ایسی ہی حالت منڈلّی گرام پنچایت حدود میں واقع پہاڑ کی ہے ۔ جوگی منے ، کرسچین اسٹریٹ ، نستار وغیرہ علاقے کے لوگوں کے لئے یہ پہاڑ جانوروں کے چارہ کے لئے اہم ترین مرکز ہے ۔ یہاں بڑے پیمانے پر کھیتی باڑی کرنے والے موجود ہیں ۔ ان کے مویشیوں کے لئے  چارہ چرانے یا پھر چارہ جمع کرکے لانے کے لئے روزانہ اسی پہاڑ پر لوگ جاتے ہیں ۔ اس جگہ منڈلی پنچایت کا کچرا نکاسی مرکز بھی قائم کیا گیا ہے۔ 
    
مگر اب یہ پہاڑ لال پتھروں کی کان کنی کرنے والوں کے ہتھے چڑھ  گیا ہے ۔ حالانکہ اس کا بہت بڑا حصہ محکمہ جنگلات کی ملکیت ہے ، لیکن پتھروں کے کاروباری اسی علاقے سے گزرتے اور اپنا کاروبار زوردار طریقے سے چلاتے نظر آتے ہیں ۔ پتھروں کی کھدائی قانونی طور پر ہو رہی ہے یا نہیں اس بات کی فکر نہ ریوینیو ڈپارٹمنٹ کو ہے اور نہ محکمہ جنگلات کو ہے کہ ان کی اپنی زمین محفوظ ہے یا نہیں ۔ تیسری طرف اس بے روک ٹوک کھدائی سے وہاں پہاڑ کے دامن میں بسنے والے مکانوں اور مکینوں کو  آئندہ درپیش خطرات کے تعلق سے نہ پنچایت کے ذمہ داران کو فکر ہے اور نہ ہی سرکاری افسران اور عوامی نمائندوں کو اس کی پروا ہے۔
    
اس پہاڑ کے بڑے حصے پر پتھروں کے لئے کھودے گئے بڑے بڑے اور بہت زیادہ گہرے گڈھے صاف نظر آتے ہیں ۔ برسات کا موسم ہونے کے باوجود  پتھروں کی کھدائی میں استعمال ہونے والی بھاری مشینیں اس علاقے میں کھڑی نظر آتی ہیں اور کھدائی کا علاقہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے جس سے لگتا ہے کہ جلد ہی یہ پورا پہاڑ ہی آنے والے دنوں میں غائب ہوجائے گا اور پھر وہاں کے مکینوں کے لئے قدرتی آفت نازل ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔


Share: